Wp/khw/فارغ بخاری

From Wikimedia Incubator
< Wp‎ | khwWp > khw > فارغ بخاری
Jump to navigation Jump to search
فارغ بخاری
آژیک سید میر احمد شاہ
11 نومبر 10917(1917-11-11)ء
پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
بریک 13 اپریل 10997(1997-04-13)ء
پشاور، پاکستان
ادبی نام فارغ بخاری
پیشہ شاعر، نقاد، محقق، صحافی
زبان اردو، پشتو، ہندکو
قومیت پٹھان
شہریت پاکستانپاکستانی
اصناف شاعری، تنقید، خاکہ، سوانح، تحقیق، صحافت
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
نویوکو کوروم ادبیات سرحد
زیر و بم
شیشے کے پیراہن
پیاسے ہاتھ
پشتو لوک گیت
ایوارڈ و اعزازات صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

فارغ بخاری (پیدائش: 11 نومبر، 1917ء - بریک: 13 اپریل، 1997ء) پاکستانو تعلق لاکھاک اردو، ہندکو اوچے پشتو زبانو ممتاز شاعر، نقاد، محقق اوچے صحافی اوشوئے۔

حالات زندگی[edit]

فارغ بخاری 11 نومبر، 1917ء پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)ہ پیدا ہوئے[1][2][3]۔

تصانیف[edit]

  • خوشحال خان کے افکار (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • خوشحال خان خٹک (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • پشتو شاعری (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • رحمان بابا کے افکار (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • رحمان بابا (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • پٹھانوں کے ارمان (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • آیاتِ زندگی
  • عورت کا گناہ (افسانے)
  • باچا خان (خان عباغفار خان کی سوانح حیات)
  • اٹک کے اُس پار (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • پشتو لوک گیت (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • پشتو ڈراما
  • بے چہرہ سوال (نظمیں )
  • غزلیہ (غزلیں)
  • ادبیات سرحد جلد سوم (بہ اشتراک رضا ہمدانی)
  • البم (ترقی پسند مصنفین کے خاکے)
  • دوسرا البم (خاکے)
  • ہندکو زبان کا ارتقا
  • اقبال پر خوشحال کا اثر
  • نویاں راواں (ہندکو شاعری کا انتخاب)
  • کالی تہپ (ہندکو شاعری کا مجموعہ)
  • برات عاشقاں (مشرقی پاکستان کے سفر کا رپورتاژ)
  • شیشے کا پیراہن (شاعری)
  • خوشبو کا سفر (شاعری)
  • پیاسے ہاتھ (شاعری)
  • محبتوں کے نگار خانے (شاعری)
  • زیر و بم (شاعری)
  • آئینے صدائوں کے (شاعری)
  • اندیشۂ شہر (انتخاب کلام مرزا محمود سرحدی)

نمونۂ کلام[edit]

اشعار

جب درد جگر میں ہوتا ہے تو دوا دیتے ہیں رک جاتی ہیں جب نبضیں تو دُعا دیتے ہیں
کوئی پوچھے تو سہی اِن چارہ گروں سے فارغ جب دل سے دھواں اُٹھے تو کیا دیتے ہیں

شعر

فقیہہِ شہر کا سکہ ہے کھوٹا مگر اس شہر میں چلتا بہت ہے

غزل

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہےہر شاخ پہ غنچے کی جگہ زخم کھلا ہے
دو گھونٹ پلا دے کوئی مے ہو کہ ہلاہلوہ تشنہ لبی ہے کہ بدن ٹوٹ رہا ہے
کل اس کو تراشو گے توپوجے کا زمانہپتھر کی طرح آج جو راہوں میں پڑا ہے

غزل

تری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہےورنہ آرائشِ افکار میں کیا رکھا ہے
ہے ترا عکس ہی آئینۂ دل کی زینتایک تصویر سے البم کو سجا رکھا ہے
برگ صد چاک کا پردہ ہےشگفتہ دل سےقہقہوں سے کئی زخموں کو چھپا رکھا ہے
اب نہ بھٹکیں گے مسافر نئی نسلوں کےکبھیہم نے راہوں میں لہو اپنا جلا رکھا ہے
کس قیامت کا ہے دیدار ترا وعدہ شکندلِ بے تاب نے اک حشر اٹھا رکھا ہے
کوئی مشکل نہیں پہچان ہماری فارغ اپنی خوشبو کا سفر ہم نے دا رکھا ہے

غزل

دیکھ کر اس حسین پیکر کونشہ سا آ گیا سمندر کو
ڈالتی ڈگمگاتی سی ناؤپی گئی آ کے سارے ساگر کو
خشک پیڑوں میں جان پڑ گئیدیکھ کر روپ کے سمندر کو
کوئی تو نیم و دریچوں سےدیکھے اس رتجگے کے منظر کو
ایک دیوی ہے منتظر فارغ وا کئے پٹ سجائے مندر کو


حوالہ جات[edit]

  1. فارغ بخاری، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  2. ص 798، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  3. فارغ بخاری، ریختہ ویب بھارت