Jump to content

Wn/ur/سعد حسین رضوی سربراہ تحریک لبیک

From Wikimedia Incubator
< Wn‎ | ur
Wn > ur > سعد حسین رضوی سربراہ تحریک لبیک
سعد حسین رضوی
معلومات شخصیت
شہریت پاکستان  
مذہب اسلام
مکتب فکر سُنی بریلوی مکتب فکر
جماعت تحریک لبیک پاکستان  
والد خادم حسین رضویؒ
بہن/بھائی حافظ انس حسین رضوی  
مناصب
صدر نشین (2 )  
آغاز منصب

نومبر 2020

در تحریک لبیک پاکستان
عملی زندگی
پیشہ حافظ قرآن،  عالم،  سیاست دان  
مادری زبان پنجابی،  اردو،  عربی  
پیشہ ورانہ زبان پنجابی،  اردو  

سعد حسین رضوی (پیدائش، 1994ء) علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔ اور خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے امیر بنائے گئے۔خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی اٹھارہ رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔

لاہور میں خادم حسین رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سعد حسین رضوی اس وقت لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

مواد[edit | edit source]

گرفتاری اور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے فیصلے 2021ء[edit | edit source]

17 نومبر 2021ء کو آپ کے والد محترم علامہ خادم حسین رضور رحمتہ اللہ علیہ نے فرانس میں سرکاری سطح پر نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کیخلاف پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سنگم فیض آباد میں دھرنا دیا جس میں مطا لبہ کیا گیا کہ سرکاری طور پر فرانس کو جواب دیا جائے (پاکستان فرانس کا سفیر پاکستان سے نکالے اور اپنا سفیر فرانس سے واپس بلا کر فرانس سے تعلقات ختم کرے اور سرکاری سطح پر فرانس کی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے )اس ضمرے میں حکومتِ وقت نے آپ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ حکومتِ پاکستان پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کریگی جس کی بنا پر یہ معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیا جائے گاحکومتِ وقت نے آپ سے 3 ماہ کا وقت مانگا حضرت خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ نے حکومتِ وقت کی بات مانتے ہوئے 3 ماہ کا ٹائم فراہم کرتے ہوئے دھرنا ختم کر دیا، معاہدے کو گزرے دو دن ہوئے تھے کہ حضرت خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے خالقِ حقیق سے جاملے۔مقررہ وقت کے دوران حکومتِ وقت نے اپنے معاہدے پر تحریکِ لبیک پاکستان کی کئی مرتبہ یادہانی کے باوجود کوئی پیش رفت نہ دکھائی تحریک نے پھر دھرنے کا اعلان کیا اسی دوران حکومتِ وقت نے 2 ماہ کا مزید ٹائم لیااور معاہدے کا اعلان حکومتِ وقت کے موجودہ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے اے آر وائی نیوز چینل پر بھی کیا، 20 اپریل 2021 تک معاہدے کا ٹائم مقرر ہوا جس میں یہ بات بھی شامل تھی حکومتِ وقت تحریک لبیک پاکستان کا کوئی کارکن اور کوئی ذمدار گرفتار نہیں کرے گی مگر حکومتِ وقت نے اپنا معاہدہ توڑتے ہوئے 12 اپریل 2021ء کو سعد حسین رضوی کو لاہور پولیس نے گرفتار کر لیا، جس کے بعد پاکستان کے کئی شہروں تحریک لبیک پاکستان اور اس کے حمایتی کارکنوں نے بطور احتجاج دھرنے دیئے مگر حکومتِ وقت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے قانونی راستہ اختیار کیا تقریباَ تین ماہ بعد لاہور ہائیکورٹ نے سعد حسین رضوی کی گرفتاری و نظر بند کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دیا رہائی کی خبر سنتے ہیں ہزاروں کارکنان کوٹ لکھپت جیل کے باہر اپنے قائد کے استقبال کیلیئے پہنچے مگر حکومت نے اپنی بدنیتی دکھاتے ہوئے سعد حسین رضوی کو رہا نہ کیا اور مزید تین ماہ کی نظر بندی کا نوٹس دائر کر دیاتین ماہ گز جانے کے بعد ہائی کورٹ نے ایک مرتبہ پھر سعد حسین رضوی کی نظر بندی و گرفتاری کو کالعدم قرار دیا اور فوراً رہا کرنے کا حکم دیا مگر حکومتِ وقت نے ہائیوکورٹ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا کچھ دن گُزرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بھی سعد حسین رضوری کی نظربندی اور گرفتاری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوراً رہائی کا حکم دیا چونکہ سپریم کورٹ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے اور اس عدالت کے بعد اللہ ہی کی عدالت ہے، تمام کارکنان سپریم کورٹ کے فیصلے پر اک بار پھر جمع ہوئے مگر حکومت نے تمام کے تمام فیصلے پاؤں تلے روندھ ڈالے اور سعد حسین رضوی کو رہا نہ کیا۔ تحریک لبیک پاکستان 7 دن لاہور کے ملتان روڈ پر واقع مسجد رحمتہ اللعلمین کے باہر پُر امن احتجاج کیا مگر کسی نے بھی ان کے احتجاج پر کان نہ دھرے شوریٰ کے طرف سے حکومت کو دو دن کا الٹی میٹم دیا گیا کے ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کرے مگر کسی بھی حکومتی نمائندے نے کوئی رابطہ نہ کیا مجبوراً تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ نے لاہور تا اسلام آباد ناموسِ رسالتؐ لانگ مارچ کااعلان کیا۔ جاری ہے۔۔۔۔

حوالہ جات[edit | edit source]