Wp/scl

提供:Wikimedia Incubator
< WpWp > scl
    شینا ۔زبان کی تاریخ     

شینا پشتو زبان کا لفظ شین سے ماخوذ ہے جس

کا معنی( سر سبز ) ہے ۔تاریخ دانوں   کے مطابق جب افغانی حکمران احمد شاہ دورانی نے  1751 میں شمالی علاقہ جات  کو اپنی  سلطنت  کا حصہ  بنانے کے  بعد وہاں کا دورہ کیا تو شمالی علاقہ  جات کے سرسبز مقامات دیکھ کر متاثر  ہوئے اور   گلگت بلتستان کو شین ساحه (سرسبز علاقہ)  کا نام دیا اور یہاں  کی گرینری کی نسبت سے افغانوں نے آسانی کے لیے  تمام زبانوں کو ( شینا)  یعنی سرسبز علاقوں کی زبان) کے نام  سے ایک نیا نام دیا ۔
گلگت بلتستان  کے علاوہ  شینکاری اور پٹن بھی گرینری کی وجہ سے   شین نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے جیسے آفغانی آج بھی شین وزیرستان اور شین افغانستان   بولا کرتے ہیں۔
 اسی طرح کئی زبانوں سے بنی ایک نئی زبان کا وجود  عمل میں آیا بعض ماہرین کے مطابق شینا تقریبا  22زبانوں اور  کئی لہجوں  کا مجموعہ  ہے۔ اور بعض ماہرین شینا کو  13 زبانوں  کا مجموعہ  سمجھتے ہیں۔ شینا کا معنی سرسبزے علاقہ جات میں بولی جانے والی زبانیں   ہیں  جس میں چترال سے لیکر لداخ اور کاشغر  تک تمام زبانوں  کو شینا کہا جاتا ہے۔