Jump to content

Wn/ur/کچن گارڈننگ

From Wikimedia Incubator
< Wn‎ | ur
Wn > ur > کچن گارڈننگ

گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیٔے گھر میں یا گھر کے آس پاس سبزیاں اگانا کچن گارڈننگ کہلاتا ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے سبزیات کی دیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے کسانوں نے پیداوار بڑھانے کے نت نٔے طریقہ کار اپنا لیٔے ہیں۔ جن میں کیمیاییٔ کھادوں اور کیڑے مار زہریلی ادوایات کا بکثرت استعمال بھی شامل ہے۔  اس کی وجہ سے اگرچہ سبزیات کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے مگر سبزیات کی کوالٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ شہری آبادی کے نزدیک اگائی جانے والی سبزیات میں آبپاشی کے لیٔے سیویریج کے پانی کا استعمال بھی انسانی صحت کے لیٔے انتہائی مضر ہے۔  ان تمام عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے، کچن گارڈننگ متعارف کروائی گئی ہے تاکہ گھریلو پیمانے پر تازہ اور کیمیائی آلودگی سے پاک سبزیوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔

زمانہ قدیم میں زراعت کی ابتداء کچن گارڈننگ سے ہوئی۔

کامیاب کاشت کے اصول[edit | edit source]

گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کامیاب کاشت کرنے کیلئے مندرجہ ذیل چند اصولوں پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے:

  • براہ راست دھوپ کا حصول
  • زمین کا انتخاب
  • کچن گارڈن گھر سے قریب ہو
  • کچھ گا رڈننگ کیلئے موزوں آب پاشی
  • سبزیوں میں ہوا کا عمل دخل
  • کچن گا رڈننگ کی منصوبہ بندی

حکمت عملی[edit | edit source]

سبزیوں کی بہترین پیداوار کے حصول کیلئے اوپر دیے گئے اصولون پر عمل پیرا ہو نے کے بعد مندرجہ ذیل حکمت عملی اختیار کریں:

  • سبزیاں کتنی جگہ پر کاشت کرنی ہیں
  • کونسی سبزیاں کاشت کرنی ہیں
  • پیداواری ٹیکنالوجی کا حصول
  • سبزیوں کی دیکھ بھال کیلئے درکار وقت
  • زمین کی تیاری سے برداشت تک کا مطلوبہ آلات کا حصول
  • کا حصول ۔Biological Pesticides ۔ بیجوں ،کھاد وں
  • فصل پر نا گہانی آفات کی صورت میں کہا ں سے راہنمائی حا صل کی جا سکتی ہے

گھروں میں سبزیاں اُگاتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • سبزیوں کی بر وقت کاشت اچھی پیداوار کی ضامن ہے
  • چھو ٹے پلاٹوں میں ایسی سبزیاں کا شت کریں جو زیا دہ دیر تک پیداوار دیتی ہیں مثلاً پالک ،میتھی وغیرہ
  • سبزیاں کھیلیوں پر کاشت کریں ہموار سطح پر کاشت کر دہ سبزیات پر بیماریاں حملہ آو ہو تی ہیں مثلاً جڑ کا اکھیڑا اور مرچوں میں کا لر راٹ
  • موسم گرما کی بیلوں والی سبزیات کو بانس وں اور سیبوں نیٹ کی مدد سے اوپر چڑھا یا جائے یا بانسوں کی مدد سے چڑھایا جا ئے تا کہ ہوا کا گزر ہو با لکل دیوار کے ساتھ نہ چڑھائیں
  • مختلف قسم کے کنٹینر میں سبزیاں جب اُگ آئیں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان میں نمی سوکھنے نہ پائے اور نہ ہی بہت زیا دہ پانی دیا جا ئے اس سے مختلف قسم کی بیما ریاں جنم لے سکتی ہیں
  • مختلف کنٹینز میں اگائی گئی سبزیوں کو ایسی جگہ رکھیں جہاں کم از کم 6تا8 گھنٹے دھوپ لگے اور دیوارسے کم از کم ایک فٹ ہٹا کر رکھیں
  • سبزیاں جب بر داشت کے قابل ہو جائیں تا فوراً برداشت کر لیں ورنہ ان کی کوالٹی متاثر ہو گی
  • گھریلو پیمانہ پر اُگائی ہو ئی سبزیاں اگر اپنی ضرورت سے زیا دہ ہیں تو ان کو اچھے طریقے سے محفوظ کیا جائے تا کہ یہ دیر تک رہ سکیں اور دوبارہ استعمال کرنے پر ان کی کوالٹی خراب نہ ہو۔ مثلاً ضروری ہے یعنی تازہ مٹروں کو ایک سے 2منٹ اُبلتے پانی میں ڈال کر فوری نکال لیں۔ خشک کر کے مناسب پیکنگ میں محفوظ کریں۔ اس Blanching مٹروں کو محفوظ کرنے کیلئے ان کیطرح دوران سٹور ہونے والی تبدیلیاں ختم ہو جا ئیگی اور انہیں دیر تک فریزر میں محفوظ کیا جا سکتا ہے اور اس طرح ان کی کوالٹی بھی خراب نہ ہو گی۔ ہر سبزی کو محفوظ کرنے کیلئے علیحدہ طریقہ کار ہے اور اس کی راہنمائی حا صل کرنے کیلئے محکمہ زراعت کے شعبہ پوسٹ ہار ویسٹ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
  • سبزیوں کی دیر پا فراہمی کیلئے بہتر ہے کہ ان کی بجائی وقفے وقفے سے کریں۔ تا کہ ان کی فراہمی کا تسلسل دیر تک جا ری رہے۔ مثلاً مولی کو اگر ایک ہی وقت میں کاشت کرتے ہیں تو اُن کی فراہمی یا بر داشت بھی تقریباً ایک ہی وقت پر ہو جا ئے گی۔ جن کا استعمال بھی تقریباً چند دنوں تک محدود رہ جا تاہے۔ اگر اس کی بجائی دس دن کےوقفہ سے دو یا تین دفعہ کریں گے تو ان کی فراہمی تقریباً ایک ماہ تک جا ری رہے گی۔ اسی طرح با قی سبزیوں کی بجائی انہی طریقوں پر کی جا ئے تو فراہمی کو دیر تک جا ری رکھا جا سکتا ہے۔
  • کچن گا رڈننگ میں بیماری سے متاثر ہ پودودں سے حا سل شدہ سبزی قابل استعمال ہو تی ہے۔۔
  • اس کے علا وہ بعض پودوں کو کیڑوں کے حملہ سے نقصان اور رس چوسنے والے کیڑوں سے بھی حملہ آور ہو جا تے ہیں اور پودے کے پتے چھو ٹے بیمار نظر آتے ہیں۔ ان پودوں سے اُتاری ہو ئی سبزیاں قابل استعمال ہو تی ہیں اور اسی طرح جن سبزیوں مثلاً بینگن میں سنڈی کا ابتدائی حملہ ہوا ہے اور پھل گلنے سڑنے سے محفوظ ہے تو متاثرہ حصوں کو کاٹ کر پھینک دیں بقیہ سبزی قابل استعمال اور محفوظ ہے اور قطعاً مصز صحت نہیں ہو تیں اس کے بر عکس جن پر زہروں کا استعمال کیا گیا ہو بعض اوقات وہ اچھی طر ح دھونے سے بھی زہر کے اثرات پاک نہیں ہو تے۔ با لخصوص جن پر اسپرے کی گئی ہو جو کہ محکمہ زراعت کی سفارشات کے بر خلاف ہیں۔ اب ایسی ادویات مارکیٹ میں ملتی ہیں جن کا اثر چند گھنٹوں سے لے کر ایک سے 2 دن کا ہو تا ہے اور اس کے بعد سبزی کا استعمال محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

بیرونی روابط[edit | edit source]