Wn/ur/چترال، وادی کیلاش میں پن بجلی کا منصوبہ مکمل

From Wikimedia Incubator
< Wn‎ | urWn > ur > چترال، وادی کیلاش میں پن بجلی کا منصوبہ مکمل
Jump to: navigation, search
Kalasha women.jpg

چترال(ویکی نیوز) خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں قدرتی آبی وسائل سے بجلی کے کئی پیداواری منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں‘ جن میں وادی کیلاش کے لئے 250 میگاواٹ پن بجلی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے لئے مالی وسائل امدادی امریکی ادارے یو ایس ایڈ (USAID) اور قومی حکمت عملی برائے دیہی کمیونٹی ترقی (رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام) نے فراہم کئے ہیں۔ اراکین اسمبلی پر مشتمل پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی پاور کا کہنا ہے کہ ’’چترال میں بارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ حکومتی سرپرستی میں جاری بجلی کے پیداواری منصوبوں کی تکمیل سے قومی گرڈ میں بارہ سومیگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو گا۔ فی الوقت چترال میں گولین گول پراجیکٹ‘ ریشن پاور پراجیکٹ‘ لاوی پراجیکٹ اور شیشی پاور منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل سے چترال کی بجلی ضروریات بڑی حد تک پوری ہو جائیں گی۔ امریکہ کے علاوہ ناروے اور نیدر لینڈ حکومتوں کی جانب سے بھی چترال میں پن بجلی کے منصوبوں کے لئے امداد فراہم کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گذشتہ ماہ کے آغاز پر بروز گاؤں کے مقام دومون میں نکاسی آب اور بیوڑی میں بجلی کے منصوبے مکمل گئے ہیں۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ’واٹر اینڈ پاور نے پن بجلی کی پیداواری گنجائش بروئے کار لانے کے لئے سفارشات بھی مرتب کی ہیں۔ سفارشات کے مطابق چترال میں 9 مختلف مقامات پر پن بجلی کے منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مجموعی پیداوار 1168 میگاواٹ ہے جبکہ اس میں مزید 800میگاواٹ کا اضافہ کر کے 2000 تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ 9 مقامات میں ایک مقام لاوی پر کام کا آغاز جلد کر دیا جائے گا‘ جس کی پیداواری صلاحیت 69 میگاواٹ ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چترال خیبرپختونخوا کا ’بلوچستان‘ ہے‘ جس میں فی مربع کلومیٹر صرف ساٹھ افراد آباد ہیں۔ افغانستان سے لگنے والی اس کی سرحد کی وجہ سے یہ علاقہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے۔ پن بجلی کے علاؤہ سیاحتی امکانات کی بدولت بھی چترال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا بلند ترین پولوکا میدان اور مخصوص تہذیب وتمدن کی بین الاقوامی شہرت یافتہ وادی کیلاش کے گھنے جنگلات ‘زرخیز وادیاں‘وسیع وعریض چراگاہوں ‘دلکش نظاروں اورامن پسند باسیوں کا مرکز ضلع چترال محرومیوں کی داستان ہے۔ وادی کیلاش کے لئے پن بجلی منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی اُو) چترال رحمت اللہ وزیر اور رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے انجنیئر تیمور شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نیو کالاشا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘ کی تکمیل سے وادی کیلاش میں اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کیلاش کے رہنے والے اس علاقہ میں ہزاروں سال سے آباد ہیں لیکن وہ آج بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کیلاش کی تینوں وادیوں کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی کا نظام موجود نہیں۔ کیلاش قوم کی نمائندگی کرنے والی خاتون نورین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بجلی کے آنے سے نہ صرف تاریکیاں دور ہوں گی بلکہ وادی کیلاش کے رہنے والے ایک نئے طرز زندگی اور فعال معاشرت سے روشناس ہوں گے۔ ڈی سی اُو چترال نے اس موقع پر کہا کہ چترال میں دس ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی کے پیداواری امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ کیلا ش کون ہیں؟ کیلاش چترال شہر سے تقریباً 30کلو میٹر کے فاصلے پر شروع ہونے والے علاقہ کا نام ’کیلاش‘ ہے جو بنیادی طور پر 3حصوں پر مشتمل ہے۔ چترال شہر سے آتے ہوئے پہلے ایون نامی ایک چھوٹا قصبہ آتا ہے جہاں سے اس علاقے کو جانے کے لئے راستے نکلتے ہیں۔ ایک طرف وادی بریر دوسری طرف بمبوریت اور تیسری طرف وادی رمبور ہے لیکن ان سب میں مرکزی حیثیت بمبوریت کو حاصل ہے جہاں کیلاش سب سے زیادہ بستے ہیں۔ اسی علاقے میں ہی سب سے زیادہ ہوٹل اور سیاحوں کے لئے سامان تفریح مہیا ہے۔ دوسرے نمبر پر رمبور ہے جبکہ بریر کی طرف بہت کم ہی لوگ رخ کرتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ بلندی پر بھی نہیں اور اس کا موسم بھی اس قدر ٹھنڈا نہیں کہ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔کیلاش قبیلے کی تاریخ پر مؤرخین کا اختلاف ہے۔ کیلاش خود کو بنیادی طور پر سکندر اعظم کی اولاد کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق سکندر اعظم کی افواج کے زخمی سپاہی اپنے اہل و عیال سمیت یہاں ٹھہر گئے تھے اور پھر وہیں سے یہ قبیلہ پرورش پاتا گیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ لوگ دو سو سال قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں اور بنیادی طور پر یہ لوگ افغان صوبہ نورستان کے باسی ہیں۔ 1890ء میں جب نورستان کے امیر عبدالرحمان نے صوبہ کا نام کافرستان سے نورستان رکھا اور وہاں کے لوگوں کو دعوت اسلام دی تو تقریباً سبھی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ معدودے چند لوگ اسلام قبول کرنے سے منکر ہوئے اور پھر کیلاش کی وادیوں میں آ کر بس گئے۔ ایک اور روایت کے مطابق کیلاش قبیلہ عرصہ دراز تک چترال کا حکمران رہا۔ پھر یہاں کے مسلمانوں نے انہیں شکست دیکر چترال چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور یہ لوگ جان کی امان پا کر وادیوں گھاٹیوں میں رہنے لگے۔ ویسے اس بات پر تقریباً سبھی کا اتفاق ہے کہ چترال پر کیلاش قبیلہ کی حکومت رہی ہے اور یہ کہ چند دہائیاں قبل ان کی آبادی 35سے 40ہزار تک تھی لیکن اب یہ 2ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ اس بات کا ایک عملی ثبوت یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کے کیلاشی لباس پہن کر چترال یا علاقے کے دوسرے حصوں میں جانے پرپابندی ہے۔کیلاش قبیلہ کے لوگوںکو’کالے رنگ کا لباس‘ پہننے کی وجہ سے ’کالا کافر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ پہلے پہل ساری زندگی غسل نہیں کرتے تھے لیکن اب وہ صفائی ستھرائی کو اپنا چکے ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاں اب بھی غسل کا رواج کم ہے لیکن کبھی نہ غسل کرنے کا رواج ختم ہوچکا ہے۔ لوگ پہلے پہل اپنے مردوں کو دفن کرنے کی بجائے لکڑی کے ڈبے میں مردے کی ذاتی اشیاء کے ساتھ اسے قریبی جنگل میں رکھ چھوڑتے تھے۔ وہ وہیں گلتا سڑتا، بدبو پیدا کرتا اور پھرختم ہو جاتا، اب ان لوگوں نے مردوں کو باقاعدہ دفن کرنا شروع کر دیا ہے۔