Wn/ur/افغانستان: افغان امن کونسل کے اہم رکن ہلاک

From Wikimedia Incubator
< Wn‎ | urWn > ur > افغانستان: افغان امن کونسل کے اہم رکن ہلاک
Jump to navigation Jump to search

ارسلا رحمانی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی تھیں اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ مسلح محافظوں کے بغیر کیوں سفر کر رہے تھے.

افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد نے افغان امن کونسل کے ایک اہم رکن ارسلا رحمانی کو گولی مار کر کے ہلاک کر دیا۔ ارسلا رحمانی طالبان کے دور حکومت میں وزیر رہے اور اس وقت افغان امن کونسل کے سینیئر رکن تھے۔

افغان امن کونسل افغانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کی گئی ہے۔ ارسلا رحمانی افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تھے اور افغان طالبان کمانڈرز کے ساتھ بات چیت میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

ان کی ہلاکت سے افغان صدر حامد کرزئی کی افغانستان میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ پولیس کے مطابق اتوار کو ایک گاڑی میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے ارسلا رحمانی کو ہلاک کر دیا گیا جب وہ کام کے سلسلے میں کابل کے مغربی علاقے میں جا رہے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ حملہ آور سفید رنگ کی ایک ڈیوٹا کرولا کار میں سوار تھے اور ارسلا رحمانی کو قتل کرنے کے لیے سائلنسر لگی بندوق سے صرف ایک گولی چلائی گئی۔

نامہ نگار کے مطابق ارسلا رحمانی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی تھیں اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ مسلح محافظوں کے بغیر کیوں سفر کر رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق’ ارسلا رحمانی کے ڈرائیور کو فوری طور پر ان کے ہلاک ہونے کا اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ارسلا رحمانی طالبان قیادت کے پہلے اعلیٰ رکن تھے جو امن منصوبے میں شامل ہوئے۔ صدر حامد کرزئی کے ایک قریبی ساتھی نے نامہ نگار کو بتایا کہ ارسلا رحمانی کے قتل کے بعد اب دیگر طالبان رہنماؤں کو تشویش ہو گی۔

صدر حامد کرزئی طالبان کمانڈروں سے رابطے ارسلا رحمانی کے ذریعے کرتے تھے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کتنے طالبان کمانڈرز کو امن منصوبے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ صدر حامد کرزئی طالبان قیادت کی سوچ اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار پر ارسلا رحمانی سے اکثر مشاورت کرتے تھے۔

رحمانی امن کونسل کی اس کمیٹی کے سربراہ تھے جو طالبان قیدیوں کو بگرام اور دیگر افغان جیلوں سے رہائی کے لیے کام کرتی ہے۔

افغان امن کونسل کے چیئرمین برہان الدین ربانی گزشتہ سال ستمبر میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے افغانستان میں گزشتہ سال طالبان کے ساتھ امن کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ستمبر میں سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی ایک خودکش حملے میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ طالبان رہنماؤں سے اپنی رہائش گاہ پر مذاکرات کر رہے تھے۔

برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ ماہ ان کے بیٹے نے صلاح الدین ربانی نے افغان امن کونسل کی قیادت سنبھالی ہے۔

افغان حکام کا دعوٰی کیا تھا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی اور خودکش حملہ آور بھی ایک پاکستانی تھا۔

پاکستان نے برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات کے لیے افغانستان کو تعاون کی پیشکش کی تھی۔


کالم نگار عمر فاروق میانا اردو وکی نیوز لاہور


Wn/ur/زمرہ:کالم نگار عمر فاروق میانا اردو وکی نیوز لاہور