Jump to content

Wn/skr/یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے سنتے ہوں گے

From Wikimedia Incubator
< Wn | skr
Wn > skr > یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے سنتے ہوں گے

یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے ہوں گے؟

20 جولائی 2025ء

کالم نگار: اورنگزیب اورنگ بغلانی

بلوچستان کی زمین ایک بار پھر لہو سے رنگی گئی۔ ایک مرد اور [عورت] کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ الزام؟ محبت۔ جرم؟ ساتھ جینے کی خواہش۔ سزا؟ موت۔ اور قاتل؟ وہی خود ساختہ غیرت کے ٹھیکے دار، جن کے نزدیک ریت کے اصول، انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہیں۔ یہ واقعہ نہیں، نوحہ ہے۔ یہ دو لاشیں نہیں، دو سوال ہیں — اور دونوں کا سامنا ہم سے ہے۔ اور میں، ان دونوں اجسام کو دیکھ کر صرف ایک بات سوچتا رہا: یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے ہوں گے؟ مست توکلی، جس نے اپنے وقت کے پتھر دل قبیلے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا: "عشق اَنت بئی، ناز اَنت بئی، مَنئیں دلءَئے راز اَنت بئی..." (عشق تم ہو، ناز تم ہو، میرے دل کا راز بھی تم ہو...) وہ مست، جو سسی کے عشق میں خاک ہوا، جو بلوچی سماج کی صدیوں پرانی تلوار کو چیلنج کر کے محبت کی بات کرتا رہا۔ اور آج؟ آج اسی بلوچ زمین پر، محبت کی سزا موت ہے۔ لوگ بیٹھ کر محفلوں میں مست کے شعر پڑھتے ہیں۔ واہ واہ کرتے ہیں۔ گنگناتے ہیں۔ کچھ تو راگ میں گا بھی دیتے ہیں۔ لیکن جب ایک جیتے جاگتے مست و سسی کو دیکھتے ہیں، تو بندوق نکال لیتے ہیں۔ محبت اگر کتاب میں ہو تو "صوفیانہ" لگتی ہے، زمین پر ہو تو "غداری" کہلاتی ہے۔ یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے ہوں گے؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مست نے جو کہا، وہ صرف لفظ تھے؟ کیا وہ یہ بھول گئے کہ مست توکلی نے بھی قبائلی پابندیوں کو روند کر عشق کیا تھا؟ کیا مست کا درد فقط شاعری کے لیے تھا؟ یا وہ بھی اسی انجام کا حقدار ہوتا اگر وہ آج کے بلوچستان میں ہوتا؟ بلوچی درندگی کا یہ واقعہ، ہمارے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ ہم جو اپنے کلچر پر فخر کرتے نہیں تھکتے، لیکن اس کلچر کی نام نہاد "غیرت" جب زندگی چھین لے، تو ہم چپ رہتے ہیں، یا جواز تراشتے ہیں۔ محبت اگر جرم ہے تو مست توکلی سب سے بڑا مجرم تھا۔ لیکن ہم نے اُسے شاعر مانا، صوفی مانا، دانشور مانا — کیونکہ وہ مر چکا تھا۔ زندوں سے ہمیں خطرہ ہوتا ہے۔ ہم شاعری سے عشق کرتے ہیں، لیکن عاشقوں سے نفرت۔ ہم عشق کو سُننا چاہتے ہیں، دیکھنا نہیں۔ ہم مست کو چاہتے ہیں، لیکن سسی کو مار دیتے ہیں۔ تو پوچھتا ہوں — یہ لوگ مست توکلی کے شعر کیسے پڑھتے ہوں گے؟ شاید صرف زبانی، شاید صرف زینتِ محفل، اور شاید... صرف تب تک جب تک عشق قبر میں نہ اتر جائے۔